Thursday, January 19, 2012
Wednesday, September 21, 2011
teri aankhein
Ghum hai mere zindagi khushi teri aankhein,
Rooenge Bohat hum se juda ho kar,
Bhoolaye hi nahi jathi hum se teri aankhein,
Dehkaye sahi dathi hai har pal mujhe,
Mager zakhmi Dil mein utar ti hai teri aankhein,
Ab tak meri yaadein hai es aankhon mein,
Ladthi hai har pal en yaadon se teri aankhein,
Yun hi yaad karthe rehna hum ko har pal,
"ArMaaN" sahil aur samandar teri aankhein.
Thursday, August 11, 2011
دل والے
دل والے آنکھوں کی بات سمجھ لیتے ہیں
خواب میں ملے تو ملاقات سمجھ لیتے ہیں
روتا تو آسمان بھی ہے کسی کے پیار میں
لیکن لوگ اسے برسات سمجھ لیتے ہیں
Tumhi ko chahtey rehna acha lagta hai
Bhari mehfil mein tanha rehna acha lagta hai
Tere barey mein sochte rehna acha lagta hai
Kabhi pholon mein, kabhi kaliyon mein
Tujh ko hi dhoondhte rehna acha lagta hai
Meri zindgi ki khushiyan tumhi se hain wabasta
Rab say sirf tumhein hi mangna acha lagta hai
Tumharey baghair zindgi ka koi tasavur nahi hai
Kuch is tarah tumhari tamanna karna acha lagta hai
Tum hi ko chaha,tum hi ko chahtey hain
Tumhi ko chahtey rehna acha lagta hai
Sunday, July 10, 2011
Train Accident in up Zee News 22 killed, 100 injured
اترپردیش میں ریلوے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ آلہ آباد کے قریب ایک ریل گاڑی کے تیرہ ڈبے پٹری سے اتر گئے ہیں جس میں بیس افراد ہلاک اور ایک سو پچیس افراد زخمی ہوئے ہیں
ریاست کے ریلوے اہلکاروں کا کہنا ہے یہ ٹرین حادثہ آلہ آباد اور کانپور کے درمیان فتح پور ضلع کے ملوہ ریلوے سٹیشن کے قریب پیش آیا ہے۔
الہ آباد کے انسپکٹر جنرل آف پولیس جاوید اختر نے بتایا ہے کہ ابھی تک بیس لاشوں کو نکالا جاچکا ہے۔
اہلکاروں کے مطابق دلی کالکا سپر فاسٹ ٹرین کے تیرہ ڈبے پٹری سے اترگئے ہیں جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ ابھی تک تئیس لاشوں کو نکالا جاچکا ہے اور مزید ہلاکتوں کو خدشہ ہے۔
نارتھ سینٹر ریلوے کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا ہے کہ ایک بڑا حادثہ لگتا ہے۔
پولیس اور ریلوے نے امدادی کام شروع کردیا ہے۔ مقامی افراد کی مدد سے زخمیوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔
ریاست میں ریلوے کے ایک سینئر اہلکار ونے متل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ ایک بڑا حادثہ لگتا ہے اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
ریلوے کے ترجمان انل سکیسنا نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ زخمیوں کی تعداد سو سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں داخل کرایا جارہا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ کانپور اور دیگر قریبوں شہروں سے میڈیکل ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ رہی ہے۔ اس کے علاوہ فوج بھی ریلوے کی مدد کا کام کررہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ریل کے بعض ڈبوں کو کاٹ کر مسافروں کو نکالا جارہا ہے۔
ابھی تک حادثے کی وجہ کا پتہ نہیں چلا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ کسی وجہ سے ٹرین کے ڈرائیور کو ایمرجنسی بریک لگانے پڑے جس کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا ہے۔