Sunday, April 24, 2011

Amir Saleem Khan receiving Matashri Award





Hamara Samaj, Chief Reporter Amir Saleem Khan
receiving Matashri Award From L K Advani

پرنٹ میڈیا کی اہمیت سب سے زیادہ: اڈوانی
35ویں ماتر شری ایوارڈ سے 26صحافی سرفراز، اردو میں ہمارا سماج کے عامر سلیم خان کو دیا گیاایوارڈ
نئی دہلی 24 اپریل،پرےس رےلےز:بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈراور سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن آڈوانی نے آج پرنٹ میڈیا کی اہمیت اور اس کی ذمہ داری کو سب پربرتر بتاتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کی چکاچوند سے انکار نہیں لیکن پرنٹ میڈیا کی اہمیت آج اور بڑھ گئی ہے۔ مسٹر آڈوانی یہاں رشین کلچر سینٹر میں 35ویں ماتر شری ایوارڈ تقریب میں مخاطب تھے۔ ماتر شری ایوارڈکمیٹی کے ذریعہ ایوارڈ کیلئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے منتخب25صحافیوںکو اور سماجی خدمات کیلئے ایک عدد ایوارڈ دیاگیا۔مہمان خصوصی مسٹر لال کرشن آڈوانی کے ہاتھوں صحافیوں کو ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ ایوارڈ کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر دنیش شرماکی نظامت میں چلے پروگرام کے دیگر مہمانوں اور مبارکباد دینے والوں میں اشونی کمار چوپڑا، ایس ایس اگروال، یوگیش چھابڑا،شری کانت مشرا،ایوارڈ کمیٹی صدر ہریش چوپڑا، ڈاکٹر اطہر الٰہی خان، الحاج محمد یعقوب، ڈاکٹر مقصوداحمدخان، اسعد میاں، ارشاد احمد خان اور روزنامہ عندلیب کے ایڈیٹر محمد مستقیم خان موجود تھے۔ایوارڈ یافتگان میں پی ٹی آئی بےورو چےف اجے کول، بھاشا سے سدھےر اپادھےائے، ےو اےن آئی سے راجےو سلوجا، ےونےوارتا سے آشا مشرا اور اردو صحافت کےلئے روزنامہ ہمارا سماج کے چےف رپورٹر عامر سلےم خان ، ےو اےن آئی کے سےنئر فوٹو گرافر وی کے چوہان ،راجستھان پترےکا کے گنےش بھٹ ، پنجاب کیسری کے شیکھر سنگھ جھا، نو بھارت ٹائمز کے شنکر سنگھ، ہندوستان ہندی کی ہیم لتا کوشک ،سماجی خدمات کیلئےڈاکٹر نند کشور گرگ، راشٹریہ سہارا سے سینئر صحافی پرمانشو شیکھر، ہندوستان ٹائمز انگریزی سے فوٹو ایڈیٹرٹی نارائنن،جاگرن سے سنجے رائے، امر اجالا سے بھارت پانڈے، نئی دنیا سے کمار گجیندر چوہان، جن ستا سے سنجیو کمار، نوبھارت مدھیہ پردیش بیورو چیف پرویش کمار مشرا، ڈی ایل اے شامنامہ سے کارگزار ایڈیٹر ویریندر سینگر، ہندی شامنامہ ساندھیا ٹائمز دہلی کے ویریندر کمار ،الیکٹرانک میڈیا میں ڈی ڈی نیوز کے گریش نشانہ، آج تک کے انوراگ ڈھانڈا، آئی بی این- 7 کی موسمی سنگھ، آکاشوانی سے راجندر اپادھیائے اور سہارا سمے سے سنجے ورما شامل تھے۔ مسٹر لال کرشن آڈوانی نے کہا کہ میں الیکٹرانک میڈیا کی بڑھتی مقبولیت سے واقف ہوں لیکن صحافت میں پرنٹ میڈیا کی جوابدہی آج اور برھ گئی ہے۔ پرنٹ میڈیا کی اہمیت اس معنی میں زیادہ ہے کہ وہ جو کچھ ہے تحریر میں موجود ہے جو تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ محفوظ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ کافی اہم ہیں جو ملک کی خدمت اپنے قلم سے کرتے ہیں اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے سخت محنت کرتے ہیں۔ جہاں ایک طرف اشونی کمار چوپڑانے بھی صحافت کی اہمیت اجاگر کی وہیں مسٹر دنیش شرما نے ماتر شری ایوارڈ کی تاریخ پر مختصر رو شنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دراصل صحافیوں کا کردار ملکی خدمات میں سب سے اہم ہوتا ہے اس لئے اس ایوارڈ کے ذریعہ ان کی ہمت افزائی کی جاتی ہے۔

Monday, January 31, 2011

m2kmedia

A Complete Professional website @ 6999/-
( No Hidden Cost )
We have a complete Web-Package which consists of Domain name, Web Hosting and Web Designing.
Your Complete Professional Website Includes :
Web Hosting :
A-Get Your Own Domain
Domain Name Registration for one year (.com .net .org, in & .co.in)
Your own Domain Name like www.yourname.com
B-Web Space 100 Mb Webspace, with Control Panel
25 email ids, with spam filter
Your own POP3 Email Address like yourname@yourname.com
Full Support & Help to Get Your Website, Control Panel, Email Configuration, Outlook Configuration and more...
Web Development :
Professional Home Page design to match your concept/vision About us / Company Profile Our Vision / Mission Services / Products Our Clients / Our Associates / Our Partners Contact us Query/Feedback Form Flash Animation where required 4 Updates in an year FREE Free Search Engine / Directory Submission Hit counter / Web Stats
Contact Us at :9871676801/9312141858/9999
Mail us at : m2kmedia10@gmail.com
Time taken: 4 working days after the home page is approved

Monday, January 24, 2011

ہند۔ پاک مذاکراتی عمل پھر سے بحال ہونے کی توقع ، پاکستانی 13رکنی صحافتی وفد دہلی میں

ہند۔ پاک مذاکراتی عمل پھر سے بحال ہونے کی توقع ، پاکستانی 13رکنی صحافتی وفد دہلی میں
نئی دہلی:ہندوستان اورپاکستان کے درمیان مذاکراتی عمل کے ایک بار پھر بحال ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیںا س کا تجزیہ آج یہاں سابق سفارت کاروں اورریسرچ اسکالروں نے پاکستان سے آئے ہوئے 13رکنی صحافتی وفد کے ساتھ ایک میٹنگ نے کیا ۔ پاکستان کا یہ وفد حکومت ہند کی دعوت پر یہاں آیا ہے اس وفد نے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا اور وزارت خارجہ کے ترجمان وشنوپرکاش سے ملاقات کی ہے پاکستانی صحافیوں کے لئے یہاں آبزرو ریسرچ فاو ¿نڈیشن میں ایک میٹنگ کا اہتمام کیاگیا تھا جس میں سابق سفارت کار مہاراج کرشن رسگوترا ، نامورصحافی سعید نقوی کے علاوہ کئی د یگر دانشوروں نے بھی شرکت کی ۔ مسٹر رسگوترا نے اس موقع پر اپنی مختصر سی تقریر میں کہا کہ انہیں اس بات کا پورا اعتماد ہے کہ ہندوستان اورپاکستان کے وزارئے خارجہ اور خارجہ سکیورٹی کے درمیان آئندہ میٹنگ میں دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے قدم اٹھائے جائیںگے ۔ انہوںنے کہا کہ بھوٹان کی راجدھانی تھمپومیں دونوںملکوں کے خارجہ سکریٹریوں کے درمیان سارک میٹنگ میں ملاقات ہوگی اور اس با ت کا یقین ہے کہ اس میٹنگ میں دونوں ہی ملکوں کے اعلیٰ حکام اپنی بات چیت کے دوران تعلقات کو خوشگوار اور معمول پر لانے کے لئے اپنی ہر ممکن کوشش کریںگے۔اور اس جانب مثبت اور ٹھوس اقدامات کئے جانے کی بھی توقع ہے ۔
انہوںنے کہا کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا کچھ روز قبل دورہ ¿ ہند کافی اہمیت کا حامل رہا ہے جس سے تاثر ملتا ہے کہ انہیں پاکستان سرکا ر نے ایک اہم مشن کے لئے یہاں بھیجا ہوگا ۔
پاکستانی صحافیوں نے اپنے تاثرات کے دوران کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں سردمہری کی وجہ سے انتہا پسند اورشدت پسند طاقتوں کو تقویت مل رہی ہے اوریہ وقت کا تقاضا ہے کہ دونوں ہی ملکوں کے حکام کو اعتماد سازی کے تئیں قدم اٹھانا چاہیے ۔ انہوںنے کہا کہ اگر ہم تعلقات کومعمول پر لانے میں ناکام ہوئے تواس سے شدت پسند قوتوں کو اورتقو یت ملے گی ۔ اس وفد میں مرز ا اقبال احمد بیگ، فاروق خان ، کمال صدیقی ، خرم حسین ، محمد فیضان ، مشرف زیدی اور کاسور کلسارا کے علاوہ کئی دوسرے صحافی شامل تھے جنہوںنے پاکستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی اکثریت ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی خواہش مند ہے انہوںنے یہ بھی کہا کہ دونوںملکوں کے عوام سے عوام کے درمیان رابطوں سے تعلقات کو معمول پر لانے میں بھی مدد ملے گی ۔ انہوںنے کہا کہ دونوں ملکوں کی سرکاریں عوامی رابطوں کے لئے ویزا جیسی بندشوںمیںاورزیادہ نرمی کرے اس کے علاوہ ثقافتی رابطوں میں بھی اورزیادہ اضافہ کیا جائے ۔ ممبئی میں 2008کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد ہندو ستان نے پاکستان کے ساتھ جامع مذاکراتی عمل کو روک دیاتھا ابھی پچھلے سال ہی ہندوستان کے وزیر داخلہ پی چدمبرم اوروزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کے علاوہ خارجہ سکریٹری محترمہ نروپما راو ¿ اسلام آباد کا دورہ کرچکے ہیں جہاں انہوںنے پاکستانی وزارت خارجہ کے حکام کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے بات چیت کی تھی اس سے قبل وزیر اعظم منموہن سنگھ اوران کے پاکستانی ہم منصب یوسف رضا گیلانی نے مصر کے شرم الشیخ میں ملاقات کی تھی جس کے بعد یہ امید بڑھی تھی کہ دونوں ملک تعلقات پر جمی برف کو پگھلانے اورزیادہ مثبت قدم اٹھائیںگے۔

Thursday, December 30, 2010

Happy New Year


Happy New Year
All World People
Mohd Khan
Balrampuri